رپورٹ: عمران خان
کراچی: وفاقی نیشنل فوڈ سکیورٹی کے ماتحت ادارے اینمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر نے منظور نظر جونیئر ترین افسر کو بیک وقت امپورٹ اور ایکسپورٹ کے اہم امور کا چارج دے دیا۔دوسری جانب بدعنوانیوں اور کرپش کی اطلاعات پر شروع کی جانے والی محکمہ جاتی انکوائری میں تمام نزلہ غی رمتعلقہ ماتحت ملازم پر ڈال کر ذمے دار افسران کو بچا لیا گیا۔انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کے دوران کئی افسران اور اہلکاروں کے بیانات لئے تاہم جن بیانات میں اصل ذمے داروں کی نشاندہی کی گئی اور بدعنوانیوں،من مانیوں اور کرپشن کے حوالے سے اطلاعات کی تصدیق کی گئی انہیں رپورٹ کا حصہ بنانے کے بجائے چھپا لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کچھ عرصہ قبل اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ اینمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ سندھ کے ڈائریکٹرمقبول احمد نے ایک جونیئر ترین افسر عبدالرحمن کو بر آمد و در آمد کو اہم ترین چارج دے دیا۔جس کے بعد مذکورہ افسر نے اپنی ناتجربے کاری اور من مانیوں کے نتیجے میں ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے وفاقی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا جبکہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ کسٹمز سے کلیئر ہونے والی گوشت اود ودھ سے بنی اشیاء کی فزیکل چیکنگ کے لئے ماتحت ڈرائیور اور منشی ٹائپ ملازمین ادارے کی گاڑیاں دے کر بندرگاہوں پر بھیجے جاتے جوکہ واٹس ایپ پر سامان کی وڈیوز اور تصاویر افسران کو بھیج دیتے اور یوں نام نہاد فزیکل چیکنگ مکمل ہوجاتی۔یہ تمام امور ایجنٹوں کے ذریعے معاملات طے کر کے افسران کرتے۔یہ بھی کہ کھیپوں کی کلیئرنس کے لئے لیبارٹری ٹیسٹ کے نمونوں کے لئے درجنوں لیٹر اور کلو کے حساب سے اشیائے خوردنوش منگوانے کی فرمائشیں کی جا رہی ہیں۔
ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد ادارے کے حکام کی جانب سے اس پر نوٹس لیا گیا اور انکوائری کمیٹی قائم کی گئی۔اس انکوائری کمیٹی کے ذمے لگایا گیا کہ مذکورہ اطلاعات پر ثبوت اور شواہد سامنے حاصل کرنے کے ساتھ ذمے داروں کا تعین کرکے حقائق پر مشتمل رپورٹ جمع کروائیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔اس کے ساتھ ہی ان اطلاعات پر بھی انکوائری کمیٹی کو کام کرنے کے لئے کہا گیا جن کے مطابق پی ایس ڈبلیو کے آن لائن سرٹیفیکیٹ کے نظام کو متاثر کرنے اور من مانی کرنے کے لئے اینمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے مذکورہ جونیئر افسر عبدالرحمن نے سامان بر آمد کرنے والی کمپنیوں کے مالکان اور کلیئرنگ ایجنٹوں کو براہ راست دفتر میں بلا کر معاملات طے کرنے شروع کردئے تھے۔اس وقت ان کی کھیپوں کے نکلنے کا وقت ہوتا ہے اور جہاز لگے ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کی اہمیت ہوتی ہے تاہم اسی وقت بارگیننگ کرکے اپنی بات منوائی جاتی ہے۔
تاہم معلوم ہوا کہ اس انکوائری کمیٹی تمام نزلہ ہیڈ آفس سے درجنوں کلو میٹر دور سپر ہائی وے کے سنسان علاقے میں قائم ادارے کی لینبارٹری میں تعینات ایک ماتحت ملازم پر ڈال دیاکر جان چھڑا لی۔حالانکہ یہ تما م سرگرمیاں ہیڈ آفس میں انجام دی جاتی ہیں۔مذکورہ کروڑوں روپے کے بجٹ والی اس لیبارٹری کا حال یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر غیر فعال ہے اور ایک سینئر موسٹ افسر عارف میمن کو کھڈے لائن لگا کر یہاں تعینات کر رکھا ہے۔اب یہ حال ہے کہ مذکورہ معاملات میں ملوث افسران کے خلاف حقائق دبا کر انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔جبکہ اسی جونیئر افسر کو بیک وقت امپورٹ اور ایکسپورٹ کا چارج دے دیا گیا ہے یعنی وہ کورنٹائن امپورٹ افسر بھی ہیں اور ایکسپورٹ کے ایگزامنر بھی ہیں۔