رپورٹ: عمران خان
کراچی: ایم ڈی سائٹ کے عہدے پر نئے افسر کی تعیناتی تنازع کا شکار ہو گئی۔معاملے پر عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئیں۔27مارچ کو چیف سیکرٹری سندھ سے جواب طل کرلیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر سابق ڈائریکٹر ایڈمن عارف زیدی کو تعینات کرنے کے بعد مذکورہ معاملہ متنازع صورت اختیار کر گیا۔نئے ایم ڈی کی تعیناتی سائٹ کے ادارے کے اپنے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دے کر اس تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا کیونکہ سائٹ کے میمورنڈم کے تحت نان کیڈر ایڈمن سیکشن افسر کو ایم ڈی سائٹ نہیں لگایا جاسکتا۔
اس ضمن میں موصول ہونے عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق عارف زیدی کو 2016 میں لمبی غیر حاضری کی وجہ سے ملازمت س برطرف کردیا گیا تھا۔بعدازاں واپس نوکری بحال کروائی تو شرط تھی کہ بورڈ منظوری دے گا تو انہیں عہدہ ملے گا۔ تاہم 2021میں اثررسوخ کی بنیاد پرانہیں سیکرٹری لگا دیا گیا۔ تاہم معاملہ پٹیشن کی صورت میں عدالت پہنچا تو انہیں ہٹا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق بعدازاں حالیہ عرصہ میں انہیں پہلے غضنفر قادری کی ریٹائرمنٹ پر قائم مقام ایم ڈی سائٹ تعینات کردیا گیا۔ جس پر اس تعیناتی کو خلاف قواعد قرار دے کر پھر معاملہ پٹیشن کی صورت میں عدالت پہنچا جہاں سے سیکرٹری سے جواب طلب کیا گیا تاہم بورڈ کی منظوری اور منٹس آف میٹنگ کا ریکارڈ نہ ملنے کی وجہ سے ایک عارضی حل نکالا گیا اور ان کی جگہ ایک دوسرے افسر ابولاعلی بھٹی کا ایم ڈی تعیناتی کا نوٹیفکیشن نکال کر عدالت میں پیش کردیا گیا کہ مذکورہ افسر کو ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم جیسے ہی عدالتی معاملہ ختم ہوا انہیں کو دوبارہ ایم ڈی سائٹ تعینات کردیا گیا۔ جسکے مقدمہ ختم ہوگیا اور 10روز کے وقفے کے بعد خاموشی سے عارف زیدی جوکہ نان کیڈر افسر ہیں انہیں ایم ڈی سائیٹ دوبارہ تعینات کردیا گیا۔ بعدازاں مختلف وجوہات کو جواز بنا کر سے تاریخیں لی جاتی رہیں۔ تاہم اب ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ کو آج 27 مارچ طلب کیا ہے اور ان کی تعیناتی کے بارے میں کمنٹس طلب کئے ہیں کہ کیڈر افسران کی دستیابی کے باوجود اسے بار بار کیوں ایم ڈی سائیٹ لگایا جارہا ہے۔
اس وقت اس معاملے پر مزید پٹیشن عدالت میں دائر ہیں جس پر عدالت نے جواب طلب کیا ہے کہ ادارے میں کیڈر افسران کی موجودگی کے باوجود سندھ حکومت نے ایک نان کیڈر افسر کو کیوں تعینات کردیا ہے؟ ذرائع کے بقول بڑی مالیت کے پروجیکٹ کی فوری منظوری کے معاملات ہیں۔ جبکہ درجنوں التواء میں موجود فائلیں ہیں جن میں این او سیز کے علاوہ کروڑوں روپے کے تنازعات پلاٹوں اور لین دین کے معاملات فریقین کے درمیان فیصلوں کی منتظر ہیں۔