رپورٹ: عمران خان
کراچی: کسٹمز انفورسمنٹ کلکٹریٹ کی ٹیم نے خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی سے سیریلون افریقہ بھیجے جانے والے برآمدی سامان سے پونے 3 ارب روپے کی 56 لاکھ افیمی نشہ آور “ٹراماڈول” گولیاں ضبط کر لیں۔
کسٹمز حکام کے مطابق ٹراماڈول گولیاں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے تحت ایک کنٹرولڈ نفسیاتی (controlled psychotropic drug)دوا ہے۔ ذرائع کے بقول بھارتی فارماسوٹیکل کمپنیاں اس دوا کی دنیا بھر میں سب سے بڑی سپلائر ہیں۔ جوکہ سالانہ اربوں ڈالر کماتی ہیں۔
اس دوا پر کئی ممالک میں پابندی ہے کیونکہ اس دوا میں نشہ آور مرکبات شامل کئے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کئی رپورٹس کے مطابق یہ گولیاں عسکریت پسند گروپ خاص طور پر خودکش حملہ آور گروپ زخمی ہونے پر درد میں کمی اور سکون کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے برآمدی سامان کی آڑ میں کنٹرول سئکوٹروپک ٹراماڈول کی 56 لاکھ (5.6 ملین) گولیاں افریقہ اسمگل کرنے کی ایک بڑی کوشش کو کامیابی سے ناکام بنایا۔ کارروائی کی بعد ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا۔
اس دوا (ٹراماڈول)کی زیادہ مقدار سے نشہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ٹراماڈول ٹیبلیٹس کو تولیہ کی ایک برآمدی کنسائمنٹ ظاہر کیا گیا تھا۔
ٹراماڈول ٹیبلٹس کو مغربی افریقہ کےملک سیریلون کے شہر فری ٹاؤن برآمد برآمد کیا جا رہا تھا۔ برآمدی کنسائمنٹ کا گڈز ڈیکلریشن احمد ٹریڈنگ کی جانب سے فائل کیا گیا تھا۔
یہ برآمدی کنسائمنٹ این ایل سی کنٹینرز ٹرمنل کراچی سے*گرین چینل* کے تحت رسک مینجمنٹ سسٹم (RMS) سے کلیئر ہو چکا تھا۔
ڈپٹی کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ رابیل کھوکر نے رسک پروفائلنگ سسٹم کی بنیاد پر اس برآمدی کنسائمنٹ کی نشان دہی کی اور ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ جناب باسط حسین صاحب کو آگاہ کیا۔
ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ جناب باسط حسین صاحب نے کلکٹریٹ آف کسٹمز ایکسپورٹ کراچی سے کلئر شدہ کنٹینر/ کنسائمنٹ کو روکنے اور مزید تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کئے۔
ڈپٹی کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اے ایس او محترمہ رابیل کھوکھر کی سربراھی میں اینٹی اسمگلنگ اسکواڈ کے عملہ نے قاسم انٹرنیشنل کنٹینرٹرمنل*QICT* پورٹ قاسم پر ایکسپورٹ کلکٹریٹ سے کلئر شدہ کنٹینر کو بحری جہاز پر لوڈ ھونے سے پہلے روک کر اس کنٹینر کی اسکیننگ کی اور برآمدی سامان کی سو فیصد تفصیلی جانچ پڑتال کی جسکے نتیجہ میں 56 لاکھ ٹراماڈول گولیاں برآمد ھوئیں جن کو اے ایس او کے عملہ نے اپنی تحویل میں لےکرضبط کیا۔
گڈز ڈیکلریشن(GD) میں ظاہر کردہ تولیہ Towel کنٹینر میں نہی پایا گیا۔ کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ/Fir درج کر مزید تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں کی جاری ہیں۔
ضبط شدہ ٹراماڈول ٹیبلیٹس کو ASO کے گودام منتقل کردیا گیا ہے۔ضبط شدہ ٹراماڈول ٹیبلیٹس کی اندازاً مارکیٹ قیمت *2.8 ارب روپے* ہے، جو کہ رواں برس سنہ 2025 میں کلیکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کی دوسری بڑی فارماسیوٹیکل ضبطگی ہے۔ اس سے قبل کلکٹریٹ آف کسٹمزانفورسمنٹ کراچی کے اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن(اے ایس او) نے گزشتہ ماہ فروری 2025 میں 10 ارب روپے مالیت کی Tramadol ٹیبلیٹس ضبط کی تھیں۔
کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ جناب معین الدین وانی صاحب نے اس کامیاب کارروائی پر ASO کے عملہ کی کارکردگی کو سراہا۔