رپورٹ: عمران خان

انڈس گزٹ

اسلام آباد: کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک خشک گودیوں ( ڈرائی پورٹس ) تک ٹرانسشپمنٹ پرمٹ پر جانے والے درآمدی سامان کی کلیئرنس کے لئے آن لائن جمع کروائے گئے گڈز ڈیکلریشن فارمز ( جی ڈیز ) میں تبدیلیوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے ملکی خزانے کو ڈیوٹی ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ابتدائی طور پر گزشتہ تین سال کی جی ڈیز کے ریکارڈ کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم زیادہ ثبوت و شواہد سامنے آنے پر بعد ازاں اس کا دائرہ گزشتہ 10 برسوں کے ڈیٹا کی چھان بین تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فی الوقت اس اسکینڈل کو دبانے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور اس کو سسٹم کی خرابی قرار دے کر اس کی سنگینی کو کم کیا جارہا ہے۔ کیونکہ اگر اس پر وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع ہوئیں تو موجود صورتحال کے تناظر میں اس میں حساس ادارے بھی شامل ہوسکتے ہیں جس سے گزشتہ برسوں میں ٹی پی پرمٹ کے سامان کی آڑ میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور کوئٹہ سمیت دیگر ڈرائی پورٹس سے ہونے والی اربوں روپے کی انڈر انوائسنگ، مس ڈکلریشن کا نیٹ ورک کسٹمز ایف بی آر میں موجود سہولت کاروں سمیت سامنے آجائے گا۔

ذرائع کے بقول گزشتہ برسوں میں کراچی کی بندرگاہوں سے کلیریئنس کے لئے ڈرائی پورٹس پر لے جائے گئے سامان میں ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے کئی بڑے اسکینڈل سامنے آچکے ہیں تاہم وقت کے ساتھ ان کی تحقیقات کسٹمزاپریزمنٹ، کسٹمز انٹیلی جنس اور ایف آئی اے تک میں دبا دی گئیں اور ان میں ملوث اصل پردہ نشین بینیفشری کردار اور سہولت کار ہمیشہ بچا لئے گئے۔

ذرائع کے مطابق اب تک امپورٹرز کی جانب سے 10 ہزار سے زائد گڈز ڈیکلیریشن فارمز میں کی گئی تبدیلیاں سامنے آگئی ہیں۔ جس سے آن لائن گڈز ڈیکلیریشن کی شفافیت کے نظام پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایک بار امپورٹنگ کمپنی، ایجنٹ، امپورٹڈ گڈز اور ڈیوٹی و ٹیکسز سے متعلق تمام معلومات آن لائن جمع کرانے کے بعد دستاویزات میں ردو بدل کیسے ممکن ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہین کہ یہ ٹیمپرنگ پاکستان سنگل ونڈو کے افسران کی ملی بھگت سے کی گئی ہیں۔ جن سہولت کار افسران نے ہم آہنگ سسٹم کوڈ کو تبدیل نہیں کیا بلکہ درآمدی اشیاء کی تفصیلات، کسٹمز ایچ ایس کوڈز، وزن، مقدار اور تعداد کے نمبروں میں تبدیلی کی گئی۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ جعلسازیاں مس ڈکلریشن اور انڈر انوائسنگ کی وارداتیں کرنے کے لئے کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھیڑ چھاڑ برسوں سے جاری ہے۔ جس کا پتہ جی ڈیز کے لاگ ڈیٹا ایڈت ریکارڈ سے چلتا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے واقعے کی فوری طور پر انکوائری کا حکم دیا۔ لیکن کچھ افسران جوڑ توڑ میں لگے ہوئے ہیں، اور معاملے کو دبانا چاہتے ہیں۔

زرائع کے مطابق گڈز ڈیکلریشن میں چھیڑ چھاڑ ایسے امپپورٹرز نے کی ہے، جنہوں نے اصل ڈیکلریشن کراچی پورٹ پر داخل کیا۔ لیکن ان کی منزل پشاور، ملتان، لاہور اور فیصل آباد تھی۔ گزشتہ دنوں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے درآمدی گروپ نے اپنا سامان کراچی میں کلیئر کروانے کے بجائے ٹی پی پرمٹ پر پنجاب ڈرائی پورٹ منتقل کیا۔ جہاں سے کلیئرنس کے دوران کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری پکڑی گئی۔ اس پر کمپنی مالکان اور کسٹمز کے سہولت کار افسران کے خلاف کسٹمز کے ساتھ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے بھی تحقیقات شروع کیں اور لاہور اپریزمنٹ کلکٹریٹ سے لے کر کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل تک تفتیش کی گئی تاہم بعد ازاں معاملہ دبا دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں گزشتہ کئی برسوں سے بڑا نیٹ ورک شامل ہے جو کہ اب منظم مافیا بن چکا ہے۔ ڈرائی پورٹس کو جان بوجھ کر ٹیکس چوری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کیسز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس معاملے ایف بی آر کے ساتھ ایف آئی اے اور حساس اداروں کے افسران پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے شفاف تحقیقات کرکے اس پورے ریکٹ کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔