کراچی(رپورٹ: عمران خان)
غیر ملکی آئسکریم کی در آمد میں جعلسازی کرکے ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے کیس میں ایف آئی اے نے سابق کلکٹر اپریزمنٹ پورٹ قاسم اور ڈپٹی کلکٹر کو ان کے پرائیویٹ فرنٹ مینوں سمیت شامل تفتیش کرلیا۔جبکہ آئسکریم در آمد کرنے والی کمپنی کے مالکان اور ان کی دبئی بیسڈ کلیئرنگ کمپنی کے خلاف جعلسازی کے اہم ثبوت بھی حاصل کر لئے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں 8 کروڑ سے زائد قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں غیر ملکی ا??ئس کریم کے درامد کنندگان، کسٹم کلیرنگ ایجنسی کے مالک اور کسٹم حکام کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
سرکل کے سربراہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افضل خان نے گزشتہ برس یہ تحقیقات کرپشن کیس کی اطلاعات ملنے پر شروع کروائی تھیں۔ جس کے بعدمذکورہ معاملے پر باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی۔تحقیقات میں کمپنی کے ایک سابق ملازم کے زیر استعمال آلات قبضے میں لے کر ان کی فارنسک چھان بین کی گئی۔
تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آگئے جن سے معلوم ہوا کہ درآمد کنندہ کمپنی کے مالکان اور غیر ملکی کلیئرنگ ایجنسی کی انتظامیہ کی جانب سے آئسکریم کی در آمد کی اصل دستاویزات کو جعلسازی کرکے تبدیل کیا۔کیونکہ فارنسک چھان بین میں اصل دستاویزات بھی مل گئیں اور وہ تبدیل شدہ دستاویزات بھی سامنے آگئیں جوکہ پورٹ قاسم اپریزمنٹ کلکٹریٹ کراچی سے سامان کلیئر کروانے کے لئے کسٹمز میں جمع کروائی گئیں۔
جس کے بعد اس معاملے پر باقاعدہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے جس میں دونوں کمپنیوں کے مالکان،انتظامیہ کو نامزد کیا گیا ہے۔جبکہ سابق کلکٹر اپریزمنٹ پورٹ قاسم اور ڈپٹی کلکٹر کو ان کے پرائیویٹ فرنٹ مینوں سمیت شامل تفتیش کرکے ان کے کیس میں کردار کے حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس کیس میں در آمدکنندہ کمپنی نے کلیئرنگ ایجنسی اور سہولت کار کسٹمز افسران کے ساتھ ملی بھگت کرکے غیر ملکی برانڈ کی آئس کریم کو 2019سے 2021تک انڈر انوائسنگ کر کے نہ صرف آئس کریم کی قیمت کم بلکہ وزن اور تعداد بھی کم ظاہر کر کے قومی خزانے کو 8کروڑ 14لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔